گلبرگہ ، 18/جولائی (ایس او نیوز /راست) کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی نے عہدیدارانِ سمیتی کے علاوہ کلبرگی کے دانشوروں، قلمکاروں اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کے تعاون سے احاطہ ٹاؤن ہال گلبرگہ میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ تَلے ایک خاموش احتجاجی دھرنا منعقد کیا۔
یہ خاموش احتجاج آئین کے ترمیمی آرٹیکل 371 (جے) کے موثر نفاذ اور علاقہ کلیان کرناٹک کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے ایک علیحدہ وزارت کے قیام، ضلع رائچور میں ایمس ہسپتال کے قیام،گلبرگہ میں ریلوے ڈویژنل دفترکے قیام، دستور ہند کی ترمیمی دفعہ371 (جے) کی شق 12 (اے) کے مطابق آرٹیکل 371 (جے) سے پیدا ہونے والے مسائل اور اپیلوں کے حل کے لئے گلبرگہ میں ایک علیحدہ ٹریبونل کے قیام کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔
اس کے علاوہ کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی کے دیگر مطالبات میں۔ دفعہ 371 (جے) کی شق 13 (بی) (اے) اور شق 13 (بی) (بی) (بی) کے مطابق تقرریوں میں عمر کی رعایت کے قانون سے استفادہ کو یقینی بنانے اور قواعد میں موجود خامیوں کو دور کرتے ہوئے تقررات کے عمل اور سلیکشن کی فہرست کو بار بار عدالت سے رجوع کرتے ہوئے حق تلفی کی سازش کے تدارک اور روزگار و ترقیوں کو متاثر کر رہے معاملات کی یکسوئی کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔۔ کلیان کرناٹک خود مختار ترقیاتی بورڈ، طویل مدتی سائنٹفک ایکشن پلان اور مقررہ وقت میں ترقیاتی عمل کی یکسوئی کے اقدامات، کلیان کرناٹک کی گرام پنچایت یونٹس کی ننجندمڈپپا سفارشات کے مطابق تشکیل اور کلیان پتھا اسکیم کے تحت شاہراہوں کو مقررہ مدت میں مکمل کئے جانے کے موثر اقدامات۔ جیسے مطالبات پر مشتمل یادداشت کو اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کلبرگی کے توسط سے وزیر اعظم ہند اور ریاست کرناٹک کے وزیرِ اعلیٰ کو پیش کی گئیں تاکہ خاموش احتجاجی دھرنا کے ذریعہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو متوجہ کیا جائے۔
اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ گلبرگہ میں دوسری رنگ روڈ کی تعمیر سمیت کلیان کرناٹک کی ہمہ جہتی ترقی کو ترجیحی بنیادوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ احتجاجی دھرنے میں موجود افراد سے خطاب کرتے ہوئے ریٹائرڈ وائس چانسلر پروفیسر پرتاپ سنگھ تیواری نے حکومت پر زور دیا کہ وہ کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی کے ذریعہ کی جارہی اس جدوجہد کا مثبت جواب دے، جو ہماری شناخت کی علامت ہے ان جائز مطالبات کو پورا کرے۔ پروفیسر آر کے ہڑگی نے کہا کہ یہ لڑائی حکومتوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ ہمارے حقوق کے جائز مطالبات اور بے روزگار نوجوانوں اور غریب طالب علموں کے مستقبل اور ہمارے علاقہ کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے گاندھی جی کے اپنائے ہوئے راستے و نظریاتی پس منظر میں حکومت سے کئے جارہے ہیں، ان مطالبات کی یکسوئی کو یقینی بنائے جانے پر زور دیا گیا۔۔ اسی طرح پروفیسر بسوراج کمنور نے دفعہ 371 (جے) کے تحت فوائد و خصوصی مراعات کی وضاحت کی۔ پروفیسر گروبسپا، ڈاکٹر شنکریپا کاٹن، ڈاکٹر ماجد داغی، لنگراج سرگاپور، شیو لنگپا بنڈک، رؤف قادری، راجے شیوشرانا، سلومن دیواکر، عبدالرحیم اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
سمیتی کے بانی صدر لکشمن دستی نے 15 / جولائی 2024 کو مطلع کیا تھا کہ 16/ جولائی کو خاموش ستیہ گرہ منعقد کیا جائے گا جیسا کہ محکمہ پولیس سے مہاتما گاندھی کے مجسمے کے مقام پر خاموش اور غیر متشدد ستیہ گرہ کی درخواست کی گئی تھی۔ لیکن یہ بہت تکلیف دہ بات ہے کہ محکمہ پولیس نے اس خصوص میں نوٹس جاری کی ہے۔
واضح رہے کہ لکشمن دستی کی تقریباً چار دہائیوں کی جدوجہد پر مشتمل زندگی میں ایسا نہیں ہوا ہے۔ مسٹر لکشمن دستی نے کہا کہ ہمیں محکمہ پولیس کے قواعد کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے میں ہرگز کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم یہ حیرت کی بات ہے کہ کلیان کرناٹک کے مستقبل اور ترقی کو یقینی بنانے کی جدوجہد، طلباء اور نوجوانوں کے روشن مستقبل اور تعمیری جدوجہد کی اس تحریک میں جبکہ سنجیدہ فکر کے پُرامن حامی مختلف شعبہ ہائے حیات کے سینئر ماہرین، باوقار دانشواران، معزز قلمکاروں و دیگر معزز شہریان کا یہ احتجاج کسی کو پریشان کیے بغیر ایک غیر بھیڑ والے علاقے میں خاموش ستیہ گرہ منعقد تھا اور تعمیری جدوجہد میں انتہائی امن و شانتی کے ساتھ سبھوں نے اس میں حصہ لیا اور ایسے میں اچانک پولس کا نوٹس دیا جانا تعجب خیز امر ہے۔ جبکہ یہ احتجاج کسی کو پریشان کیے بغیر ایک غیر بھیڑ والے علاقہ میں خاموش ستیہ گرہ کے طور پر منایا جارہا تھا۔ مسٹر لکشمن دستی نے بتایا کہ مہاتما گاندھی اور بابا بھیم راؤ امبیڈکر کے نظریہ کی بنیاد پر عدم تشدد کے راستہ کے ذریعے جائز مطالبات کی مانگ کرنے والوں کے خلاف اس طرح کے واقعات دراصل پُر امن جہدکاروں کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہی نہیں بلکہ مستقبل میں حقوق کے حصول کی لڑائی کے خلاف بھی سوالیہ نشان ہے۔
اس موقع پر پروفیسر بسوراج گل شٹّی، منیش جاجو، صابر علی، بابو راؤ گنوار، بسوراج کلیانی، بابو راؤ مدنکر، سید اطہر علی، شرن بسپا کوریکوٹا، کلیان راؤ پاٹل، کیلاش ناتھ، دکشت، راجو جین، متھانا ناڈگیری، پرمیشو،ڈاکٹر ماجد داغی ر اور دیگرحضرات موجود تھے۔